“جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چانداس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام”

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

’’ المنجد ‘‘ میں لفظ ’’ العید ‘‘ کے سامنے درج ہے : ’’ ہر وہ دن جس میں کسی بڑے آدمی یا کسی بڑے واقعہ کی یاد منائی جاے ۔ کہتے ہیں کہ عید کو اس لیے عید کہتے ہیں کہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے ۔ ‘‘ (ص 852 ، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ) ۔ علمی اردو لغت میں ہے : ’’ عید۔لغوی معنی جو بار بار آے ۔ تیوہار ، جشن ، خوشی کا دن ‘‘ ۔ (ص1027 ، مطبوعہ علمی کتب خانہ ۔ لاہور) 
ہر مومن بخوبی جانتا ہے کہ اللّٰہ تعالی جل شانہ کی مخلوق میں سب سے افضل و اعلیٰ ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ ہیں ۔ ان کے برابر تو کیا کوئی ان کے مثل بھی نہیں ۔ وہ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اللّٰہ کریم جل شانہ کا ارشاد ہے : لو لاک لما اظہرت الربوبیۃ ۔ اگر آپ ﷺ کو نہ بناتا تو اپنا ربّ ہونا بھی ظاہر نہ کرتا ۔ بلاشبہ میرے پیارے نبی پاک ﷺ باعث تخلیق کائنات ہیں ۔ رسولِ کریم ﷺ کی اس کائنات میں مجسم ہوکر تشریف آوری سب سے اہم اور بڑا واقعہ ہے ۔ ان کی ولادت کی خوشی اور جشن کو ’’ عید میلاد النبی ﷺ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ عید میلاد النبی سب سے بڑی عید ہے اور تمام عیدیں اسی عید کا صدقہ و طفیل ہیں کیوں کہ وہ نہ ہوتے تو نہ عید الفطر ہوتی نہ ہی عید الاضحی ہوتی ، نہ ہی کوئی عید منانے والا ہوتا ۔
لفظ ’’ میلاد ‘‘ بھی عربی ہی کا لفظ ہے ۔ المنجد میں ’’ المیلاد ‘‘ کے سامنے درج ہے : ’’ پیدائش کا وقت ‘‘ ( ص 1396 ) ۔عربی میں برتھ سرٹی فکیٹ کو ’’شھادہ میلاد‘‘ کہتے ہیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ پیدا ہونے کا تصور ہی مخلوق کے لیے ہے ۔ اللّٰہ تعالی جل شانہ خالق ہے اور اس کی شان ہے : لم یلد ولم یولد ۔ یوں واضح ہوگیا کہ میلاد منانے والے لوگ اپنے نبی پاک ﷺ کو مخلوق مانتے ہیں ورنہ میلاد نہ مناتے۔ میلاد مناکر وہ یہی اعلان و اظہار کرتے ہیں کہ وہ رسولِ کریم ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کا عبد مقدس جانتے مانتے ہیں ۔
میلاد شریف کا لفظ ہر اس محفل و مجلس پر بھی بولا جاتا ہے جس میں رسولِ کریم ﷺ کی تشریف آوری کا بیان اور ان کا مبارک ذکر ہو ۔ اہلِ ایمان ماہ ربیع الاول میں بالخصوص اور سال بھر بالعموم محافل میلاد کا انعقاد کرتے ہیں بلکہ اپنی ہر خوشی میلاد شریف مناکر شروع کرتے ہیں ۔
نبی کا یوم ولادت کس قدر مبارک اور اہم ہے اس کا اندازہ قرآنِ کریم کی اس آیت سے کیا جاے : وسلم علیہ یوم ولد ۔ اور سلام ہو اس پر جس دن پیدا ہوا ۔ ( مریم : 15) سورۃ ابراہیم کی آیت 5 میں ہے : وذکرہم بایام اللّٰہ ۔ اور یاد لاؤ انہیں اللّٰہ تعالی کے دن ۔ اس کی تفسیر میں تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ اللّٰہ تعالی کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللّٰہ تعالی نے اپنے بندوں پر خاص انعامات فرماے ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ رسولِ کریم ﷺ تمام نعمتوں کی اصل اور سب سے بڑی نعمت ہیں اور ان کی تشریف آوری کا دن ایام اللّٰہ میں سب سے اہم دن ہے ۔ قرآن کریم ہی میں اللّٰہ تعالی کی نعمت کا خوب چرچا کرنے کا واضح بیان ہے : واما بنعمۃ ربک فحدث ( سورہ ضحی : 11 ) قرآن کریم ہی میں ارشاد ربّانی ہے : قل بفضل اللّٰہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھوخیر مما یجمعون ۔ اے حبیب (ﷺ) آپ فرمادیجئے کہ اللّٰہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت ( ملنے ) پر ضروری ہے کہ خوشیاں مناؤ وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ( جو وہ جمع کرتے ہیں )۔ ( سورہ یونس : 58 ) قرآن کریم میں ہے : فاذکروا آلاء اللّٰہ لعلکم تفلحون (اعراف:69 ) پس یاد کرو اللّٰہ تعالی کی نعمتوں کو تاکہ تم فلاح پاؤ ۔ رسولِ کریم ﷺ تما م نعمتوں کا مصدر ہیں اور نعمت عظمی ہیں ان کی یاد بلاشبہ دارین کی فوز و فلاح کا موجب ہے ۔
جناب اشرفعلی تھانوی سورۂ یونس کی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’پس مجموعہ تمام تفاسیر کا تمام دنیوی رحمتیں اور دینی رحمتیں ہوا ۔ اس مقام پر ہر چند کہ آیت کے سباق پر نظر کرنے کے اعتبار سے قرآن مجید مراد ہے لیکن اگر ایسے معنی عام مراد لئے جائیں کہ قرآن مجید بھی اس کا ایک فرد رہے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔ وہ یہ ہے کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور( ﷺ )کا قدوم مبارک لیا جاے ۔ اس تفسیر کے موافق جتنی نعمتیں اور رحمتیں ہیں خواہ وہ دنیوی ہوں یا دینی اور اس میں قرآن مجید بھی ہے ، سب اس میں داخل ہوجاے گی۔ اس لئے کہ حضور( ﷺ) کا وجود باجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور مادہ ہے تمام رحمتوں اور فضل کا۔ پس یہ تفسیر اجمع التفاسیر ہوجاے گی ۔ پس اس تفسیر کی بناپر حاصل آیت کا یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالیٰ ارشاد فرمارہے ہیں کہ حضور کے وجود باجود پر خواہ وجود نوری ہو یا ولادتِ ظاہری اس پر خوش ہونا چاہئے ۔ اس لئے کہ حضور( ﷺ )ہمارے لیے تمام نعمتوں کے واسطہ ہیں ۔ حتی کہ ہم کو جو روٹیاں دو دو قتہ مل رہی ہیں اور عافیت اور تن درستی اور ہمارے علوم یہ سب حضور( ﷺ )ہی کی بدولت ہیں اور یہ نعمتیں تو وہ ہیں جو عام ہیں اور سب سے بڑی دولت ایمان ہے جس کا حضور( ﷺ) سے ہم کو پہنچنا بالکل ظاہر ہے ۔ غرض اصل الاصول تمام مواد فضل و رحمت کی حضور (ﷺ) کی ذات بابرکات ہوئی ۔ پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے ۔ بہرحال اس آیت سے عموماً یا خصوصاً یہ ثابت ہوا کہ اس نعمت عظیمہ پر خوش ہونا چاہئے اور ثابت بھی ہوا نہایت ابلغ طرز سے ۔ اس لئے کہ اول تو جار مجرور بفضل اللّٰہ کو مقدم لاے کہ جو مفید حصر کو ہے ۔ اس کے بعد رحمت پر پھر جار کا اعادہ فرمایا کہ جس سے اس میں استقلال کا حکم پیدا ہوگیا ۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس کو مزید تاکید کے لیے فبذالک سے مکرر ذکر فرمایا اور ذالک پر جار اور فاء عاطفہ لاے تاکہ اس میں اور زیادہ اہتمام ہوجاے ۔ پھر نہایت اہتمام در اہتمام کی غرض سے فلیفرحوا پر فاء لاے کہ جو مشیر ہے ایک شرط مقدر کی طرف اور وہ ان فرحوا بشئی ہے ۔
حاصل یہ ہوا کہ اگر کسی شے کے ساتھ خوش ہوں تو اللّٰہ ہی کے فضل اور رحمت کے ساتھ پھر اسی کے ساتھ خوش ہوں یعنی اگر دنیا میں کوئی شے خوشی کی ہے تو یہی نعمت ہے اور اس کے سوا کوئی شے قابل خوشی کے نہیں ہے اور اس سے بدلا لۃ النص یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ نعمت تمام نعمتوں سے بہتر ہے لیکن چوں کہ ہم لوگوں کو نظروں میں دنیا اور دنیا ہی کی نعمتیں ہیں اور اسی میں ہم کو انہماک ہے ، اس لئے اس پر بس نہیں فرمایا آگے اور نعمتوں پر اس کی تفصیل کے لیے صراحتاً ارشاد ہوا : ھو خیر مما یجمعون ۔ یعنی یہ نعمت اس تمام چیزوں سے بہتر ہے جن کو لوگ جمع کرتے ہیں یعنی دنیا بھر کی نعمتوں سے یہ نعمت افضل و بہتر ہے پس جس نعمت پر حق تعالی اس شد و مد کے ساتھ خوش ہونے کا حکم فرمادیں وہ کس طرح خوش ہونے کے قابل نہ ہوگی ؟ یہ حاصل ہوا اس آیت کا جو مبنی ہے اس پر کہ فضل اور رحمت سے حضور ﷺ مراد لئے جائیں ۔
دوسرے مقام پر اس سے بھی صاف ارشاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی خوشی کی شے دنیا میں اگر ہے تو حضور (ﷺ) ہی ہیں اور اس میں باب الفرح یعنی حضور (ﷺ )کے وجود باجود پر جو خوشی کا امر ہے وہ کس بنا پر اور حیثیت و جہت فرح کی کیا ہے یہ بھی مذکور ہے ۔ وہ آیت یہ ہے ، ارشاد ہے : لقد من اللّٰہ علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا علیہم ایتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین ۔ ’’ یعنی حق تعالی نے مومنین پر احسان فرمایا کہ ان میں ایک رسول ان کی جنس سے بھیجا کہ وہ ان پر ان کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کو ظاہری و باطنی نجاستوں و گندگیوں سے پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب و حکمت سکھلاتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں تھے ۔
اس آیت میں یتلوا علیہم ایتہ ویزکیہم الخ سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ اصل شے خوشی کی اور مابہ الفرح والمنت یہ ہے کہ حضور (ﷺ) ہمارے لیے سرمایۂ ہدایت ہیں ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضور( ﷺ) کے متعلق خوش ہونے کی بہت سی چیزیں ہیں ۔ مثلاّ حضور (ﷺ )کی ولادت اور حضور( ﷺ) کی بعثت اور حضور( ﷺ) کے دیگر تمام حالات مثلاً معراج وغیرہ ۔ یہ سب حالات واقعی خوش ہونے کے ہیں لیکن اس حیثیت سے کہ ہمارے لیے یہ مقدمات ہیں ہدایت و سعادت ابدی کے ۔ چناں چہ اس سے صاف ظاہر ہے اس لیے کہ بعثت کے ساتھ یہ صفات بھی بڑھائی ہیں یتلوا علیہم ایتہ ویزکیھم الخ پس یہ قاعدۂ بلاغت ثابت ہوتا ہے کہ اصل مابہ المنت یہ صفات ہیں باقی ولادت شریفہ فی نفسہا یا معراج وہ باعثِ خوشی زیادہ اسی لئے ہیں کہ مقدمات ہیں اس دولت عظیمہ کا ۔ اس لئے کہ اگر ولادتِ شریفہ نہ ہوتی تو ہم کو یہ نعمت کیسے ملتی ‘‘۔ (مواعظ میلاد النبی ﷺ ۔ص ۸۴تا۸۷،مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ)
رسالہ ’’ جمعہ کے فضائل و احکام ‘‘ کے ص 4 ( مطبوعہ اسلامی کتاب گھر ، کراچی ) پر جناب اشرفعلی تھانوی فرماتے ہیں کہ ’’امام احمد رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے کہ انہو ں نے فرمایا شب جمعہ کا مرتبہ لیلۃ القدر سے بھی زیادہ ہے بعض وجوہ سے اس لیے کہ اس شب میں سرورِ عالم ﷺ اپنی والدہ ماجدہ کے شکم طاہر میں جلوہ افروز ہوے اور حضرت ( ﷺ ) کا تشریف لانا اس قدر خیر و برکت دنیا و آخرت کا سبب ہوا جس کا شمار و حساب کوئی نہیں کرسکتا ( اشعۃ اللمعات فارسی ، مشکوۃ شریف ) ‘‘
تھانوی صاحب، حضرت امام احمد رضی اللّٰہ عنہ کے حوالے سے لکھ رہے ہیں کہ جس شب میں رحمۃ للعالمین حضور ﷺ اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ طیبہ آمنہ رضی اللّٰہ عنہا کے شکم مبارک میں جلوہ افروز ہوے وہ شب کوئی عام شب نہیں بلکہ لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے اور اس قدر افضل ہے کہ ( لیلۃ القدر کی فضیلت تو ہزار ماہ سے بہتر ہے مگر ) اس شب کی فضیلت اور مرتبہ کا شمار و حساب کوئی نہیں کرسکتا ۔
حضرت شاہ ولی اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:’’ قدیم طریقہ کے موافق بارہ ربیع الاول ( یوم میلاد مصطفی ﷺ ) کو میں نے قرآن مجید کی تلاوت کی اور آں حضرت ﷺ کی نیاز کی چیز ( کھانا وغیرہ ) تقسیم کی اور آپ ( ﷺ) کے بال مبارک کی زیارت کروائی ۔ تلاوت کے دوران ( مقرب فرشتے ) ملاء اعلی ( محفل میلاد میں ) آے او ررسول اللّٰہ ﷺ کی روح مبارک نے اس فقیر ( شاہ ولی اللّٰہ ) اور میرے دوستوں پر نہایت التفات فرمائی ۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ملاء اعلی ( مقرب فرشتے ) اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت ( التفات نبوی ﷺ کی برکت سے ) ناز و نیائش کے ساتھ بلند ہورہی ہے اور ( محفل میلاد میں ) اس کیفیت کی برکات نازل ہورہی ہیں ‘‘۔
فیوض الحرمین میں حضرت شاہ ولی اللّٰہ نے مکہ مکرمہ میں مولد رسول ﷺ میں اہل مکہ کا میلاد شریف منانا اور انوار وبرکات دیکھنا بھی نقل کیا ہے ۔ خاص تاریخ کے تعین کے ساتھ میلاد شریف منانے اور میلاد شریف منانے کی برکتیں پانے کا یہ تذکرہ حضرت شاہ ولی اللّٰہ دہلوی نے اپنی کتاب القول الجلی ص74 میں تحریر فرمایا ۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بارے میں جناب اشرفعلی تھانوی لکھتے ہیں کہ انہیں روزانہ رسول کریم ﷺ کی زیارت ہوتی تھی۔ وہ شب میلاد شریف کے بارے میں اپنی کتاب ماثبت من السنہ ( مطبع قیومی ، کان پور ، اگست 1933ء ) کے ص 82 پر فرماتے ہیں ۔ : ’’ اگر ہم یہ کہیں کہ حضور ﷺ رات کو پیدا ہوے تو وہ رات لیلۃ القدر سے بلاشبہ افضل ہے کیوں کہ ولادت کی رات تو حضور ﷺ کے ظہور کی رات ہے اور شب قدر آپ (ﷺ) کو عطا ہوئی اور چیز بسبب ظہور ذات مشرف کے مشرف ہوئی ہے وہ اس چیز سے زیادہ مشرف ہے جو کہ اس کو عطا ہونے کی وجہ سے مشرف ہوئی ہو ، اور اس لیے کہ شب قدر تو اس واسطے مشرف ہے کہ اس میں فرشتے اترتے ہیں اور ولادت کی رات میں حضور ﷺ کے ظہور کا شرف ہے اور اس لیے شب قدر کی فضیلت امت ( ﷺ ) پر ہے اور ولادت کی رات کو تمام موجودات پر فضیلت ہے ۔ پس نبی پاک ﷺ وہ ہیں کہ اللّٰہ تعالی نے ان کو تمام عالمین کی رحمت کے واسطے بھیجا ہے اور ان کے سبب تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوقات پر اللّٰہ کی نعمت پوری ہوئی ہے ‘‘۔
حضرت امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مقام اہل علم سے پوشیدہ نہیں ۔ اپنی کتاب مورد الروی فی مولد النبوی ﷺ میں فرماتے ہیں : ’’ قال یعنی ابن الجزری واذا کان اہل الصلیب اتخذوا لیلۃ مولد نبیہم عید الاکبر ، فاہل الاسلام اولی بالتکریم واجدر الخ‘‘ ابن جزری کہتے ہیں کہ جب عیسائی (اہل صلیب ) اپنے نبی کی پیدائش کی رات کو بڑی عید مناتے ہیں تو اہل اسلام کو اہل صلیب سے زیادہ اپنے نبی کریم ﷺ کی تکریم کرنی چاہیے ۔ میں کہتا ہوں چوں کہ اس بات پر یہ سوال ہوتا تھا کہ ہم اہل کتاب کی مخالفت پر مامور ہیں اور شیخ ابن جزری سے اس سوال کا جواب منقول نہیں تھا تو امام سخاوی جواباً فرماتے ہیں بلکہ مشائخ اسلام کے شیخ اور اماموں کے امام ابو الفضل ابن حجر سے جو بڑے معتبر استاد ہیں ، اللّٰہ ان کو غریقِ رحمت اور ساکن جنت رکھے ، میلاد شریف منانے کی ایک اصل ثابت ہے جس سے ہر ایک دانا اور ذی علم استناد کرسکتا ہے ، اور وہ اصل یہ ہے کہ جو کہ صحیحین ، ( بخاری و مسلم ) سے ثابت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لاے تو یہود کو دیکھا کہ وہ یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں ، یہود سے وجہ دریافت کی تو یہود نے کہا کہ یہ (یوم عاشورا) وہ دن ہے جس میں اللّٰہ تعالی نے فرعون کو دریا میں غرق کیا اور موسی علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی ، پس ہم لوگ اللّٰہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھتے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم حضرت موسی علیہ السلام کے فرعون سے نجات پانے کی خوشی کرنے کا تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ، چناں چہ آں حضرت ﷺ نے خود روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو بھی حکم دیا کہ وہ اس دن روزہ رکھیں اور یہ بھی فرمایا کہ آئندہ سال بشرط زندگی نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا ۔ میں کہتا ہوں کہ اولاً حضور ﷺ نے یہود کی موافقت کی اور ثانیاً آپ (ﷺ) نے یہود کی مخالفت کی ( یعنی دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھا ) تاکہ صورت مخالفت کا بھی تحقق ہوجاے ۔ شیخ ابن حجر نے کہا کہ اس حدیث سے اللّٰہ تعالی کا شکر ادا کرنا ( خوشی کرنا ) مستفاد ہوتا ہے ایسی بات پر جس چیز کے ساتھ اللّٰہ تعالی نے اپنے بندوں پر احسان کیا ہے ( معیّن دن میں ) خواہ وہ چیز عطاے نعمت کی قسم ہو یا دفع مصیبت ہو ۔ ‘‘ ( الدرا لمنظم ص 114 مطبوعہ مجتبائی، دہلی)
کتاب ’’ جمعہ کے فضائل و احکام ‘‘ ( مطبوعہ اسلامی کتاب گھر ، کراچی ) کے ص 6 پر جناب اشرفعلی تھانوی فرماتے ہیں : ۔ ’’ ابن عباس ( رضی اللّٰہ عنہ ) نے ایک مرتبہ الیوم اکملت لکم دینکم کی تلاوت فرمائی ۔ ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا تھا ، اس نے کہا اگر ہم پر ایسی آیت اترتی تو ہم اس دن کو عید بنالیتے ۔ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ، ’’ دو عیدوں ‘‘ کے دن اتری تھی ، جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ۔ یعنی ہم کو (وہ دن عید ) بنانے کی کیا حاجت، اس دن تو خود ہی ’’ دو عیدیں تھیں ۔ ( ترمذی ، تفسیر خازن ) ‘‘
رسول کریم ﷺ کے چچا ابو لہب کو اس کی لونڈی ثویبہ نے بتایا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ کے گھر بہت خوب صورت فرزند پیدا ہوا ہے ۔ ابو لہب اس خبر سے اتنا خوش ہوا کہثویبہ کوانعام میں اپنی انگلی کے اشارے سے آزاد کردیا۔ رسول کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو ابو لہب اور اس کی بیوی نے دشمنی میں ساری زندگی صرف کردی۔ وہ ایسا شدید کافر اور دشمن کہ اس کی مذمت میں پوری سورۃ قرآن میں نازل ہوئی لیکن صرف بھتیجا سمجھ کر میلاد مصطفی کی خوشی کرنے کااسے جو فائدہ ہوا۔ اس کا ذکر بخاری شریف میں ملاحظہ ہو:
’’جب ابو لہب مرا تو اس کے گھر والوں میں سے (حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس کو خواب میں بہت برے حال میں دیکھا، پوچھا تم پر کیا گزری ؟ ابو لہب نے کہا : تم سے علیحدہ ہوکر مجھے خیر نصیب نہیں ہوئی، ہاں مجھے اس (انگلی سے ) پانی ملتا ہے (جس سے میرے عذاب میں کمی ہوجاتی ہے)کیوں کہ (میں نے اس انگلی کے اشارے سے) ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔(بخاری:5101)
امام قسطلانی، امام جزری اور حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیھم نے اس واقعے پر اپنی تحریریں یادگار بنائی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’جب کافر ابو لہب بھی ولادت کی خوشی کرنے سے نوازا گیا تو نبی پاک ﷺ کی امت کے اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو نبی کریم ﷺ کے میلاد سے بہت خوش ہوکر آپ کی محبت میں اپنی استطاعت کے مطابق خوب خرچ کرتا ہے۔ مجھے قسم ہے اپنی جان کی کہ اللہ کریم کی طرف سے میلاد مصطفی ﷺ منانے والے کی جزا سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اس کو جنت میں داخل فرمائے گا‘‘۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’اس حدیث شریف میں میلاد شریف منانے والوں کے لیے روشن دلیل ہے‘‘۔(زرقانی،ص139ج ۱ ،مدارج النبوت ،ص 19ج 2)
اپنی کتاب ’’ الدرالثمین ‘‘ میں شاہ ولی اللّٰہ فرماتے ہیں : ’’ میرے والد ماجد ( حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللّٰہ علیہ ) نے مجھ کو بتایا کہ میں میلاد کے دنوں میں حضور ﷺ کی خوشی میں کھانا پکواتا تھا ۔ ایک سال سواے بھنے ہوے چنوں کے کچھ میسر نہ آیا تو وہی چنے لوگوں میں تقسیم کردیئے ، تو میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ بھنے ہوے چنے حضور ﷺ کے سامنے رکھے ہیں اور حضور ﷺ اس ہدیئے پر بہت خوش ہیں ۔ ‘‘
حاجی امداد اللّٰہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولود شریف میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر ہر سال ( میلاد شریف ) منعقد کرتا ہوں اور قیام ( کھڑے ہوکر سلام پڑھنے ) میں لطف و لذت پاتا ہوں ۔ ‘‘ ( فیصلہ ہفت مسئلہ ، ص 5 ، مطبع مجیدی کان پور ، دسمبر 1921ء )
عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہوے چراغاں کرنا ، پرچم لہرانا ، درود و سلام کی وجد آفریں صدائیں بلند کرنا ہر گز بدعت نہیں ، اللّٰہ تعالی کی سنت ہیں ۔ علماے دیوبند کی مصدقہ کتاب الدرالمنظم میں مولانا شیخ عبدالحق محدث الہ آبادی نے تفصیل سے چوتھے باب میں ان تمام روایتوں کو بھی نقل کیا ہے جو میلاد مصطفی کے وقت ظاہر ہونے والے واقعات پر مشتمل ہیں ۔ ان روایتوں کے مطابق ’’ میلاد رسول ﷺ کے وقت آسمان کے تارے حضور ﷺ کے مکان کی چھت پر سمٹ آے اور فرشتوں نے بیت اللّٰہ شریف اور مشرق و مغرب میں پرچم لہراے اور ساری فضا میں حوریں اور فرشتے دست بستہ کھڑے درود و سلام کی صدائیں بلند کررہے تھے ۔ فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور بے پناہ خوشی کی ۔ جانوروں نے بھی ایک دوسرے کو میلاد مصطفی ﷺ کی مبارک باد دی ۔ کعبۃ اللّٰہ نے جھک کر سلامی کا ہدیہ پیش کیا ۔ اہل باطل کے دیئے بجھ گئے اور نور حق نے ہر سمت اجالا کردیا ۔ ‘‘ ( الدرالمنظم ، ص 54۔ 72 ۔ 91 ۔ مواہب لدنیہ ص 57۔ مولد العروس ص 3۔ 7 ۔ 26 ۔ شواہد النبوۃ ص 55 ، سیرۃ حلبیہ ص 94 ۔ خصائص کبری ص 45 ج 1 ۔ زرقانی ص 112 ، 116 ج 1 )
آمد کے بعد آمد کا ذکر بھی سنت ربّانی ہے : لقد جاء کم رسول ( سورہ توبہ ) رسول کریم ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جنہیں بھیج کر اللّٰہ تعالی نے اہل ایمان پر اپنا احسان ظاہر فرمایا ۔ لقد من اللّٰہ علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا
رسولِ پاک ﷺ کا ذکر ان کا خالق و مالک ان کو عطا فرماے ہوے محاسن و محامد کے ساتھ تعظیم و تکریم سے فرماتا ہے ، ہمارے لیے حکم ہے کہ ہم انہیں جب بھی پکاریں ادب اور تعظیم سے پکاریں ۔ یہ وہ ہستی ہے جس کے آداب خود خالق کائنات نے تعلیم فرماے ہیں ۔ ان کی محبت اور اطاعت اور تعظیم و توقیر کے بغیر ایمان کا تصور ہی نہیں ۔ ان کی آمد کی خوشی منانا بلاشبہ بہت مبارک اور سعادت ہے ۔
عید کا لفظ بھی قرآن کریم میں بیان ہوا ۔ سورۃ المائدہ میں ہے : اللہم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لاولنا وآخرنااے اللّٰہ ہمارے رب ہم پر آسمان سے خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کی ۔
حضرت عیسی علیہ السلام خوانِ نعمت کے نزول کے دن کے لیے ’’ عید ‘‘ ہونے کی بات کررہے ہیں اس سے اندازہ کیا جاے کہ نعمت عظمی ، جانِ رحمت ، صاحب فضل عظیم رسول کریم ﷺ کی تشریف آوری کا دن کتنی بڑی عید ہے ۔
بخاری شریف میں درج پہلی حدیث شریف میں ارشاد نبوی ہے : انما الاعمال بالنیات ۔ بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں ، اعمال کا مدار نیت پر ہے ۔ محبت و اخلاص ، تعظیم و تکریم اور عقیدت کے ساتھ ہی میلاد شریف منایا جاتا ہے اور اس کے انعقاد کا مقصد بھی نیکی و بھلائی اور خیر کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ جائز ، نیک اور مستحب کام کو غلط یا برا کہنا بلاشبہ سنگین فعل ہے ۔منکرین میلاد یہ کہتے ہیں کہ اصحاب نبوی رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس طرح عید میلاد نہیں منائی تو ہم کیوں منائیں؟ اس کے جواب میں ان سے عرض ہے کہ کیا یہ لوگ صرف وہی کام کرتے ہیں جو اصحاب نبی نے کیے؟یقیناًایسا نہیں ہے۔ پھر یہ اعتراض صرف میلاد منانے پر کیوں کیا جاتا ہے؟ دین اور نیکی سمجھ کر سینکڑوں کام ایسے کیے جاتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالی عنہم نے نہیں کیے ۔منکرین میلاد سے عرض ہے کہ وہ ذمہ داری اور دیانت داری سے بتائیں کہ کیا واقعی یہ کوئی دلیل یا قانون ہے کہ جو کام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے نہیں کیا وہ کیا ہی نہیں جاسکتا؟ جب ایساکوئی قانونی اور دلیل ہے ہی نہیں تو عید میلادالنبی ﷺ منانے پر اس اعتراض کو ان کی جہالت اور عناد کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے؟ اصحابِ نبوی بھی میلاد مناتے رہے ۔ ملاحظہ ہو : التنویر فی مولد البشیر اور الدرالمنظم ص95 میں احادیث نقل کی گئی ہیں’’ : حضرت عبداللّٰہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما ایک دن اپنے گھر والوں کے سامنے رسولِ کریم ﷺ کے واقعات و لادت بیان فرمارہے تھے اور خوشی و شادمانی کا اظہار کرکے اللّٰہ تعالی کا شکر بجا لارہے تھے اور رسولِ پاک ﷺ پر درود وسلام بھیج رہے تھے اچانک رسولِ کریم ﷺ تشریف لے آے اور فرمایا تمہارے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی ‘‘۔
’’: حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے ہمراہ میرا گزر حضرت عامر انصاری رضی اللّٰہ عنہ کے مکان کی طرف ہوا ، ہم نے دیکھا کہ حضرت عامر اپنے خاندان اور بیٹوں کو رسولِ پاک ﷺ کے واقعات ولادت سکھا اور سنارہے تھے اور فرمارہے تھے کہ یہی دن تھا ( یعنی بارہ ربیع الاول ، پیر کا دن) رسولِ پاک ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا بے شک اللّٰہ تعالی نے تمہارے واسطے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور تمام فرشتے تمہارے واسطے بخشش کی دعا کرتے ہیں اور جو شخص تمہارا سا کام کرے گا وہ تمہارا ہی سا مرتبہ پاے گا ‘‘۔
سیرت و تاریخ کی کون سی کتاب ہے جس میں میلادِ مصطفی ﷺ کے واقعات موجود نہیں ؟ میلادِ پاک کی احادیث اور واقعات قلم سے لکھنا اور شائع کرنا تو جائز ہو مگر زبان سے بیان کرنا غلط قرار دیا جاے ، ایں چہ بوالعجبیست ! عمارات اور اداروں کا مدت شمار کرکے جشن منایا جاے ، ہر طرح تشہیر کی جاے اور اسے روا جانا جاے مگر میلاد شریف کی محافل و مجالس پر اعتراض کیا جاے تو یہ کس قدر ظلم ہوگا ! ہیئت کذائی کے حوالے سے جناب رشید احمد گنگوہی کے شاگرد علامہ سید حمزہ دہلوی لکھتے ہیں : ’’ جب یہ مجلس ( میلاد شریف ) امور حسنہ سے مرتب ہوئی تو اس کی ہیئت کذائی مالیس منہ کے قبیل سے نہ ہوئی بلکہ مثل تدوین کتب احادیث و بناے مدارس و ایجاد علوم الہیہ کے ہوئی اور یہ مجلس مطہر فعل خیر ۔ جب بریانی کا طباق سامنے آتا ہے تو ہم لوگ اس کی ہیئت کذائی پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ جھٹ پٹ آستین چڑھاکر کلیہ کلوا من الطیبات میں داخل کرلیتے ہیں پس مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مجموعہ حسنات کو بھی واعملواصالحاکے تحت میں داخل کہیں ۔ ‘‘ ( الدرالمنظم ، ص 149) ۔ مزید لکھتے ہیں ، مجلس مقدس مولود عبارت مجموعہ امور خیر سے ہے جیسا کہ کتب معتبرہ اس پر شاہد ہیں اگر کوئی اپنی جہالت یا ہواے نفسانی سے اس میں کچھ خرابی ملادے تو اس شخص کے فعل کی وجہ سے ( میلا د شریف کی ) یہ مجلس مقدس علی الاطلاق خراب نہ کہلاے گی جس طرح نماز جو شارع کی مامور بہ اور فعل حسن ہے کسی نمازی کے خرابی مختلط کرنے سے بد نہ بن جاے گی ۔ ‘‘
قاعدہ شرعی ہے کہ دلیل ، حرمت کے لیے ہوتی ہے ، حلّت کے لیے نہیں۔ یعنی جو کام یا چیز منع کرنی ہو اس کی ممانعت ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوگی اور جس کام یا چیز کی ممانعت نہیں وہ بجاے خود جائز ہے ۔ علاوہ ازیں کسی چیز یا کام کا عدم وجوب ( واجب و ضروری نہ ہونا ) یا عدم منقول ( تحریر میں نہ ہونا ) اس کے عدم جواز ( ناجائز ہونے ) کی دلیل نہیں ہوتا ۔ قرآن و احادیث میں کہیں عیدمیلاد النبی ﷺ منانے کی ممانعت مذکور نہیں بلکہ جواز ثا بت ہے ۔
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے جسے حدیث قدسی کہا جاتا ہے یعنی فرمان خدا زبان رسول اللّٰہ ﷺ کہ ’’اے حبیب ﷺ ! اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ کرتا۔ایک ارشاد ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کا مرحلہ بھی نہ آتا اگر ذات مصطفی ﷺ کی تخلیق نہ ہوتی۔ان ارشادات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کی ہمارے نبی ﷺ کائنات پست و بالا کی تخلیق کا سبب ہیں،یہ برگ وبار، کوہساروریگ ز ار،یہ دریا صحرا، جن و انس، حو ر و غلماں، یہ چمک دمک، یہ ملک فلک سب نبی اور رسول تمام آقاے نام دار مدنی تاج دار،حبیب پروردگار،نبی مختار ﷺ کا صدقہ ہیں،حضرت شیخ سعدی شیرازی بھی کچھ یہی فرماتے ہیں ؂
کلیمے کہ چرخ فلک طور اُوست ہمہ نور ہا پرتو نورِ اُوست
انسان اول، حضرت آدم علیہ السلام ابھی مرحلہ آب و گل میں ہیں کہ میرے حضور ﷺ مرتبہ نبوت ہی نہیں بلکہ خاتم النبین کے اعزاز سے مشرف ہو چکے۔نشر الطیب میں جناب اشرفعلی تھانوی رقم طراز ہیں کہ حضور ﷺ کی خلقت ’’چودہ ہزار سال‘‘ قبل آدم تو متحقق ہو چکے اس سے زیادہ برسوں کی روایت ملے تو وہ بھی بے شبہ قابل تسلیم ہوگی۔
روایات شاہد ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ میدانِ عرفات میں قبول ہوئی اس مقام پر بلند ستون آج بھی یاد گار ہے ۔ جبلِ رحمت کے اطراف آج بھی ہر سال اہلِ ایمان کا ہجوم اس یاد گار کو قائم رکھے ہوے ہے ۔ وقوفہ عرفہ ، فریضہ حج کا رکنِ اعظم ہے۔ وہاں سبزہ کے تخت نہیں بچھے ہوے ۔ گل و ثمر کے شجر نہیں جو کوئی خوش نما سماں پیش کرتے ہوں ، یخ بستہ ہوائیں نہیں ، دل لبھانے اور جی بہلانے کے دل فریب مناظر نہیں مگر چہار سمت سے ہر سال صرف صبح سے شام تک وہاں آسائشوں کے بغیر وقوف کے لیے ہر صاحب ایمان پہنچنے کو بے تاب مثل ماہی بے آب رہتا ہے ، سفر کی صعوبت برداشت کرکے ، زر نقد وافر خرچ کرکے مدتوں دعائیں ، آرزوئیں کرکے گریہ زاری ، عاجزی و انکساری کرکے منت مرادیں مان کے وہاں پہنچنا ان سب کو کیوں اتنا محبوب ہے ؟ وہاں کے ذکر پر ان کے دل کیوں مچل جاتے ہیں ؟ آنکھیں کیوں ڈوب جاتی ہیں ، زبانیں کیوں نغمہ سرا ہوجاتی ہیں ؟ ہر کسی کو خبر ہے کہ حضرت آدم و حوا ہزاروں برس پہلے وہاں جمع ہوے تھے اب وہ اپنی مبارک قبروں میں اپنی حیات کے ساتھ آرام فرما ہیں ، کیا یہ سب عقل و شعور نہیں رکھتے ، کیا انہیں اپنی خود اختیار دیوانگی پر کوئی ندامت یا اس کا احساس ہوتا ؟ زندگی کے باقی ایام میں اعلی پوشاکیں زیب تن کرنے والے اس دن بے سلے دوشالے پر کیوں اکتفا کرلیتے ہیں ؟ کتنی ہی آسائشوں کو اس دن کیوں خیرباد کہہ دیتے ہیں ؟ یہ سب رنگ و نسل ،علاقہ و زبان ، ذات پات وغیرہ کے ہر امتیاز و تعارف سے بالا ’’ ایک ‘‘ ہوجانے والے کس کی اداؤں کی پیروی کرتے ہیں ؟ اس مقام کو کیوں اتنا مبارک جانتے ہیں ؟ وہاں کی جانے والی دعا کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ؟ کسی اور عبادت کی ادائی پر اس کی نسبت کو اپنے نام کا حصہ نہ بنانے والے وقوف عرفہ کرنے کے بعد تمام عمر ’’ حاجی ‘‘ کیوں کہلواتے ہیں ؟ یہ ماجرا کیا ہے ؟
رمضان المبارک ، قمری اسلامی تقویم میں نواں مہینا ہے ۔ اس مہینے کے آخری یعنی تیسرے عشرے کی پانچ طاق راتیں شبان قدر کہلاتی ہیں ۔ شب کو عربی میں لیلۃ کہتے ہیں ۔ شب قدر کی ساعتیں باقی راتوں سے کیوں زیادہ یا کم نہیں ہوتی ، گھڑی کی سوئیاں اپنی چال اس شب میں بدل نہیں دیتیں مگر شب قدر کے لیے ہر صاحب ایمان کا تصور وہ نہیں جو آخر عشرے کی جفت راتوں کا ہو یا باقی راتوں کا ہو ۔ ہر مومن اس رات بے داری کو ضروری جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ غروب شمس سے طلوف فجر تک ، زکنار شب تابہ کنار شب ، یہ ایک ہی رات ہے لیکن ہزار مہینے ( تیراسی برس چار ما ہ ) کی اس طرح کی مدت سے بہتر ہے کہ ہر دن روزہ رکھ کر راہ خدا میں پیہم جہاد اور ہر شب عبادت میں گزاری جاے ۔ وہ اس ایک شب کی عبادت کو اس مدت کی ایسی تمام عبادت سے بہتر جانتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ اس شب میں نزول قرآن ہوا ۔ قرآن کے نزول سے اس شب کو نسبت ہوگئی ، یہ شب اس نسبت سے یہ فضیلت پاگئی کہ اپنی مقررہ ساعتوں میں رہ کر بھی ہزار ماہ کی عبادت سے معمور ہر اکائی سے بہتر ہوگئی ۔ قرآن کا نزول ہر سال نہیں ہوتا مگر رہتی دنیا تک یہ رات ایک بار عطا ہونے والی نسبت کے سب سے ہر سال فضیلت و مرتبت کی وہی نوید رکھتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ پورا رمضان بھی صرف اک بار نزول قرآن کے سبب سے جو شرف پاگیا وہ شرف قیامت تک ہر سال ماہ رمضان کے ساتھ لازم و ملزوم ہوگیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کے ماہ صیام کے ایام اور آخری عشرے کی طاق راتوں کی عبادت کو باقی دنوں اور راتوں کی عبادت کے لیے بہتر جانا جاتا ہے ، ان ساعتوں میں کی جانے والی دعاؤں کو باقی ساعتوں سے بدرجہا بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
یوم عرفہ کو حضرت آدم سے نسبت ہے ، ماہ صیام اور شب قدر کو نزول قرآن سے نسبت ہے ۔ سب دن اور راتیں اللّٰہ کی تخلیق ہیں مگر اسی کے فرمان سے بھی یہ ثابت ہوگیا کہ فضیلت و مرتبت کے اعتبار سے سب یکساں نہیں ۔ جس دن اور رات کو کسی اہم واقعہ یا شخصیت سے نسبت ہوگئی اس دن اور رات کا اعتبار سوا ہوگیا ۔
یہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ تمام کائنات ہست و بود محض صدقہ و طفیل ہے ذات مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کا۔ بدیہی بات ہے کہ جس ذات کے صدقے معرض وجود اور ظہور میں آنے والوں کی نسبت اتنی فضیلت و مرتبت رکھتی ہے خود اس ذات کا اپنا شرف اور اعتبار کس قدر افضل و اکمل ہوگا اور اس ذات سے نسبت رکھنے والے لیل و نہار کی عظمت و برکت کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔ اس میں شبہ فہم و ادراک ہی کے نقص پر محمول ہوگا ۔
حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ’’ جمعہ ‘‘ کے دن ہوئی ، یہی دن ان کی وفات کا بھی دن ہے مگر ولادت آدم کے سبب ’’ جمعہ ‘‘ کا دن مومنوں کے لیے رہتی دنیا تک ’’ عید ‘‘ کا دن ہوگیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام صرف ایک ہی بار پیدا ہوے مگر ہر جمعہ کے دن ان کی ولادت کا جشن منایا جاتا ہے ، مومن عبادت گاہوں میں جمع ہوتے ہیں اور حضرت آدم کے خالق کی عبادت کرتے ہیں ۔ وہ لمحہ جس میں تخلیقِ آدم ہوئی وہ دعا کی قبولیت کا لمحہ قرار پایا ۔ شریعت میں وفات کا سوگ صرف تین تک روا ہے مگر ولادت کی خوشی کو دوام بخشا گیا ہے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت کی خوشی ہر جمعہ منائی جاسکتی ہے اور ان کی ولادت کا دن ’’ عید ‘‘ کا دن ہے تو جن کے صدقے میں حضرت آدم علیہ السلام معرض وجود میں آے اس ذات بابرکت کی ولادت کا دن کائنات کے لیے سب سے بڑی خوشی کا دن کیوں نہیں ہوسکتا ؟ اس دن کی خوشی ہر سال ہر ہفتے بلکہ ہمہ وقت کیوں نہیں منائی جاسکتی ؟
اہلِ حق کا یہی موقف ہے کہ جس شب اور جس دن کو ولادتِ مصطفی سے نسبت ہے وہ دن اور رات ہر لیل و نہار سے ہر طرح افضل و اعلیٰ اور اکرم و اشرف ہے ۔
یہ بھی اعجاز ہے کہ ولادتِ مصطفی کے لیے اس ساعت کا انتخاب ہوا جو رات اور دن ہر دو کو شامل ہے ۔ اسے بے پایاں نعمت کہیے کہ وہ ساعت رہتی دنیا تک ’’سہانی گھڑی ‘‘ اور قبولیت کی ہوگئی ۔
انہیں معلوم ہو کہ حضرت آدم علیہ السلام باغِ بہشت سے فروغ نسل انسانی کے لیے جب زمین پر اتارے گئے تو معصوم نبی کا وہ عمل ، جو صورۃ خطا تھا اور ان سے بہشت میں سرزد ہوگیا تھا حالاں کہ قدرت نے خود عصمت نبوت کی گواہی دی اور فرمایا پس توجہ نہ رہی آدم کی اور ہم نے آدم میں ( خطا کا) ارادہ نہ پایا ‘‘ اس عمل پر ندامت سے اس مقام و مرتبہ اور شان کو نقش دوام بنانے کے لیے تین سو برس سرزمین دنیا کو اپنے درہاے ثمین بیش از گوہر اشکوں سے مشک بار و ثمر بار و لالہ زار بناتے ہیں ۔ ہر لمحہ عفو و مغفرت کی طلب میں مشغول و مصروف رہتے ہیں زمین پر کوئی انسان اس وقت تک مرتکب معصیت نہیں ہوا کیوں کہ ابھی زمین پر انسانی صرف دو وجود ہیں ، دونوں بہشتی ہیں ، ایک معصوم اور ایک محفوظ ، ابھی تقویم (کلینڈر ) ترتیب نہیں دیئے گئے۔ یہ صرف دو ہیں مگر اپنے ہر عمل کو ، ہر ادا کو رہتی دنیا تک مثالی اور یادگا ربنارہے ہیں ۔ میدانِ عرفات میں ذوالحج کی 9 تاریخ کو یہ دونوں بہشت سے اترنے کے بعد جمع ہوے ہیں ۔ حضرت آدم جبلِ رحمت پر سجدہ ریز ہوکر اپنے معبود کی بارگا ہ میں التجا کرتے ہیں ، اس التجا میں رحمت سے القاء ہوے جملے شامل ہیں ، حضرت آدم اپنی دعا و التجا کی قبولیت کے لیے ایک ذات کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ۔ اللّٰہ کریم فوراً مہربان ہوجاتا ہے ۔ سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوجاتی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ، اے آدم ! تم نے جس ذات کا وسیلہ اختیار کیا ، اس ذات کا تعارف تمہیں کیسے حاصل ہوا ؟ حضرت آدم علیہ السلام عرض فرماتے ہیں ، اے میرے معبود ! جب میری تخلیق ہوئی میں نے آپ کو سجدہ کرکے پیشانی اٹھائی تو ساق عرش پر اور پھر شجر بہشت کے ہر برگ پر یہ کلمہ نقش پایا لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ میں نے جانا کہ حضرت محمد ﷺ یقیناً آپ کے محبوب و مقرب ہیں کہ آپ نے ان کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ لکھا ہے اور اس قدر لکھا ہے ، اس لیے انہیں آپ کا محبوب جان کر ان کے وسیلے سے آپ کے حضور التجا کی اور یہ کرم ہے آپ کا کہ آپ نے اس وسیلے کی برکت سے میری توبہ قبول فرمائی ۔ ارشاد ہوا اے آدم ! تم نے درست جانا بلاشبہ ( حضرت محمد ﷺ ) میرے حبیب ہیں ۔ ( سنو ) اگر میں انہیں پیدا نہ کرتا تو تم نہ ہوتے ، اے آدم ! تم نے ان کے وسیلے سے صرف اپنے لیے مغفرت چاہی اگر تم تمام زمین و آسمان والوں کے لیے بخشش چاہتے تو ہم سب کو بخش دیتے ۔ اللّٰہ اکبر
اولاد آدم اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ میدانِ عرفات میں تقویم کی ترتیب سے اسی تاریخ میں کچھ اسی ادا سے جمع ہوکر اپنے عصیان کی معافی اور توبہ کی قبولیت کا سامان ہوتا ہے ، وہ سب اسی میدان میں جمع ہوکر اس مقدس ہستی کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں اور صلہ یہ پاتے ہیں کہ جب وہاں سے لوٹتے ہیں تو خطاؤں سے پہلے دن کے نومولود بچے کی طرح پاک ہوتے ہیں ۔
یوم عرفہ ، حضرت آدم و حوا کی یادگار ہیں اور قیامت تک ہر سال بیش اہتمام سے اسے یاد رکھا جاے گا ۔ ہر صاحب عقل و دانش اہل فہم و شعور جانتا ہے کہ یوم عرفہ میں رحمت باری کا خاص نزول ہوتا ہے اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں ۔ جھولیاں گوہر مراد سے اور دل نوید رضاے الہی سے شاد کام ہوتے ہیں ۔
یومِ عرفہ ، دن کا ذکر ہے اب رات کا احوال ملاحظہ ہو ۔
مواہب لدنیہ میں ص 69 پر حضرت قسطلانی فرماتے ہیں :
آپ ﷺ کی ولادت نہ محرم میں ہوئی نہ رجب میں اور نہ رمضان المبارک اور نہ غیر رمضان المبارک کے اور مہینوں میں جن مہینوں کو شرف ہے ۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کو کسی زمانے سے شرف نہیں ملا اور زمانے کو شرف حاصل نہیں مگر آپ ﷺ کی ذات اقدس سے جیسے جگہوں کو آپ (ﷺ) کی ذات مبارکہ سے شرف ہے ، ان جگہوں میں مدینہ منورہ ہے کہ آپ ﷺ کی وجہ سے مکہ افضل ہے اگر آں حضرت ﷺ مذکورہ مہینوں یعنی محرم اور رجب اور رمضان المبارک میں پیدا ہوتے جو اہل عرب کے نزدیک بزرگ مہینے ہیں ، تو البتہ یہ گمان ہوتا کہ ان مہینوں سے آپ ﷺ کی وہ کرامات جو اللّٰہ تعالی کے نزدیک ہیں وہ ظاہر ہوئیں ، اور جس وقت جمعہ کا وہ دن جس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے ہیں ایک مبارک ساعت کے ساتھ خاص کیا گیا ۔ کوئی مسلمان بندہ جمعہ کے دن اس ساعت کو نہیں پاتا ہے کہ اللّٰہ تعالی سے اس ساعت میں کسی خیر کا سوال کرتا ہے مگر اللّٰہ تعالی وہ خیر خاص اس بندے کو عطا فرماتا ہے ۔ جس ساعت میں سید المرسلین ﷺ پیدا کئے گئے ہیں اس ساعت کے ساتھ تمہارا کیا حال ہے ( یعنی یہ نہیں ہوسکتا ) کہ تم ولادت مصطفی کی اس ساعت میں دعا مانگو اور وہ قبول نہ ہو ‘‘ ۔ص 72 پر فرماتے ہیں :
آں حضرت محمد ﷺ کی ولادت کی رات لیلۃ القدر سے تین وجوہ سے افضل ہے ۔ ان وجوہ میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت کی رات آپ کی ظہور کی رات ہے اور لیلۃ القدر اللہ تعالی نے آپ کو عطا کی ہے ۔ مشرف کی ذات کے سبب جو شے شرف پاے وہ شے اس شے سے اشرف ہوگی جو مشرف کی ذات کو عطا کی جاے ، اس دعوے میں کوئی نزاع نہیں ہے ۔ ( ہر ایک عاقل اس کو تسلیم کرسکتا ہے ) اس اعتبار سے آپ ﷺ کی ولادت کی رات لیلۃ القدر سے افضل ہے ۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر کو اس سبب سے شرف ہے کہ لیلۃ القدر میں ملائکہ نازل ہوتے ہیں ۔ولادت کی رات کو آپ ﷺ کے ظہور کے سبب شرف حاصل ہوا ہے۔آپ اس رات میں پیدا ہوے ہیں۔وہ شخص جس کے سبب ولادت کی رات کو شرف حاصل ہوا ہے وہ ان لوگوں سے افضل ہے جن کے سبب لیلۃ القدر کو شرف حاصل ہوا ہے کہ وہ ملائکہ ہیں،وہ وجہ اصح اور پسندیدہ مذہب پر ہے(جمہور اہلسنت اس پر متفق ہیں کہ ہر نبی،فرشتہ سے افضل ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ جمیع عالمین سے افضل ہیں اس پر اجماع ہے اس کو امام فخر الدین رازی اور ابن سبکی اور سراج الدین البلقینی نے حکایت کیا ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں محمد ﷺ کی اُمت پر فضل الہی واقع ہوا ہے اور آپ ﷺ کی ولادت شریف کی را ت میں تمام موجوات پر فضل الٰہی واقع مبعوث کیا ہے۔آپ کی ولادت کے سبب اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت جمیع خلق پر عام ہو ئی ہے اس لیے آپ ﷺ کی ولادت کی رات نفع میں اعم ہے اور لیلۃ القدر سے افضل ہے۔
’’اے وہ مہینہ جس میں رسول ﷺ پیدا ہوے ہیں تو کس درجہ افضل اور اشرف ہے اور تیری راتوں کی حرمت کتنی وافر ہے گویا وہ راتیں عقودمانہ میں اپنے انوار سے موتی ہیں اور اے مولود کے چہرے ! تو کس درجہ روشن ہے، پاک ہے وہ ذات اللہ تعالیٰ جس نے حضور ﷺ کی والادت کو قلوب کے واسطے بہار کیا ہے اور آپ کے حسن کو بدیع پیدا کیا ہے‘‘
(مواہب اللدنیہ (سیرت محمدیہ) کے مذکورہ اقتباسات محمد عبد القادر خاں آصفی نظامی مترجم مواہب لدنیہ (محرم ۱۳۴۳ھ) مطبوعہ حیدرآباد دکن سے نقل کئے گئے ہیں اس کتاب پر محمد احمد مہتمم دارالعلوم دیوبند و مفتی عالیہ عدالت ممالک سرکار آصفیہ نظامیہ محمد حبیب الر حمن مددگار مہتمم دارلعلوم دیوبند، اعزاز علی، جناب سراج احمد رشیدی، محمد انور مدرسین مدرسہ دارلعلوم دیوبند اور متعدد دیگر علماء کی تعریفی تقاریظ درج ہیں)عاشق حبیب باری مولانا عبد الرحمن جامی قدس سرہ السامی مولانا عبد الحق مہاجر الہ آبادی ہی نہیں بلکہ محمد بدر عالم میرٹھی ، جناب اشرفعلی تھانوی ، نے بھی اپنی تحریروں میں ولادت مصطفی پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے مبارک اور پر مسرت واقعات کا تذکرہ کیاہے ۔
رحمتِ دو جہا ں ، شفیع عاصیاں ، باعث تخلیقِ کون ومکاں حضور پُر نور ﷺ نے منبر اقدس پر رونق افروز ہوکر خود اپنا میلاد شریف بیان فرمایا ، اپنے حسب و نسب کا تذکرہ کیا تحدیث نعمت کے طور پر ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اللہ نے ان پر فرماے ۔ مدینہ منورہ آمد پر اصحابِ نبوی نے خوشی میں جلوس نکالا، علم بلند کیے اور یامحمد یا رسول اللّٰہ(صلی اللہ علیک وسلم )کی ایمان افروز صدائیں بلند کیں ، ولادت مصطفی ﷺ کے موقع پر خالق مصطفی کے فرشتوں نے خوشیاں منائیں فرشتے وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ہوتا ہے ۔ ستاروں نے حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے مکان اقدس پر سمٹ کر چراغاں کیا ۔ بیت اللہ نے جھک کے سلامی پیش کی ، فرشتوں نے علم نصب کیے درود و سلام کے نغمے گاے ، یہ سب زبان حال سے یہی کہہ رہے تھے ؂
خوشی ہے آمنہ کے لال کے تشریف لانے کی
یہ خوشی ہر اس مسلمان کو ہے جو دولتِ ایمان سے مالا مال ہے کیو ں کہ ایمان ، اسلام ہر نعمت اس ذات کا صدقہ ہے جس ذات کے سبب سے ملنے والی ہر نعمت اس قدر خوشی ہے تو خود اس ذات کی آمد پر کس قدر خوشی ہوسکتی ہے اور اس کا اظہار کما حقہ کیوں کر ممکن ہے ۔
خوشی کے اظہار کا ہر وہ طریقہ جو منع نہیں وہ بلاشبہ جائز ہے ۔ روزنامہ ’’ جنگ ‘‘ لاہور کے جمعہ میگزین 29 ستمبر سے 15 اکتوبر 1989ء کے ص 18 پر جناب عبدالرحمن ( جامعہ اشرفیہ لاہور والے ) لکھتے ہیں :’’یہ قانون یاد رکھیں کہ جائز ہونے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ اس کام کے ناجائز ہونے پر کوئی دلیل نہیں‘‘۔
اسی اصول اور قانون کے مطابق اہلِ ایمان اللہ والوں کے دن مناتے اور ان سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔حیرت ہے کہ جو لوگ میلاد النبی ﷺ منانے کو ناجائز کہتے رہے وہ ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ منانے لگے حالاں کہ ’’ سیرت ‘‘ ہرگز منائی نہیں جاتی بلکہ اپنائی جاتی ہے ۔۔۔