“حقیقت ِ ابدی ہے مقامِ شبیری بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی “

تحریر
علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری‘‘۔ کیا یزید جنتی ہے؟ حقائق کیا ہیں؟

قرآن کریم نے قرابتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی محبت وموّدت ہم پر واجب کردی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد ارشادات میں قرابتِ رسول کے عالی شان فضائل وخصائص بیان ہوئے ہیں۔ قرآن کریم ہی میں ایذائے رسول پر سنگین عذاب کا بیان بھی واضح ہے۔ احادیث رسول کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک بال مبارک کو بھی اذیت پہنچانے والے پر جنت حرام ہوجانے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا واضح بیان ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ ابو لہب (عبدالعزٰ ی )بظاہر رشتے ناتے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت پہنچانے اور ان سے بدکلامی کرنے پر اس کی مذمت میں پوری سورۃ نازل ہوئی اور اسے جہنم کا ایندھن بنادیا گیا۔ ابو لہب کی بیٹی’’سبیعہ‘‘مسلمان ہوکر صحابیہ ہوگئی۔ اصحاب نبوی میں سے کچھ نے اسے ’’جہنم کے ایندھن کی بیٹی‘‘ کہہ کر پکارا۔ اصحاب نبوی کا ایسا کہنا خلافِ واقعہ بات نہ تھی مگر طنز سے اس طرح پکارنا اسے ناگوار گزرا۔ اور وہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شکوہ گزار ہوئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلال میں آئے اور اجتماع صحابہ میں فرمایا: کون ہے جو میری قرابت کے بارے میں مجھے اذیت پہنچاتا ہے؟ اس سے اندازہ کیا جائے کہ چچا زاد بہن کو صرف طنز کرتے ہوئے پکارنا بھی ایذائے رسول کا باعث ہے تو اس محبوب شہزادے کا سفاکانہ قتل کتنی اذیت کا باعث ہوگا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا پھول فرماتے اورمہربان ماں کی گود میں جس کا روپڑنا بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گوارا نہ ہوتا، وہ شہزادہ جسے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کندھوں پر سوار کراتے ،نماز میں وہ پشت پر سوار ہوجائے تو کونین کے والی سجدہ لمبا کردیتے ہیں کہ شہزادہ کہیں پشت سے گِر نہ جائے۔ یہ شہزادہ وہ ہے جس کے نانا رسول اللہ سید الانبیاء والمرسلین ہیں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔بابا مولائے کائنات علی المرتضیٰ سید الاولیاء ہیں رضی اللہ عنہ ۔ ماں امّ السادا ت، مخدومہ کائنات تمام جہانوں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور یہ شہزادہ خود جنت کے نوجوانوں کا سردار ہے۔ صحابی رسول ہے، مظہر شجاعت رسول ہے، ریحان رسول ہے۔ ان کی محبت بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہے۔ ان کی ناراضی بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کی ناراضی ہے۔ جو ان سے محبت رکھے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا اس کے لیے یہ ہے کہ اے اللہ تو اس سے محبت فرما۔ ان کا نام ہر خطیب ہر جمعہ کے خطبہ میں ادب سے ادا کرتا ہے۔ ان پر درود نہ بھیجا جائے تو نماز ہی ادا نہیں ہوتی۔ اس شہزادے کو بے !دردی سے قتل کرنا کس قدر ایذائے رسول کا موجب ہوگا!
فخر کونین سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے عہد کے افضل انسان تھے، علم وعمل، زہد وتقویٰ، حسب ونسب میں ہر طرح ممتاز اور بہتر تھے، وہ شریعت وسنت کو بہت بہتر جانتے تھے۔ ان کے کردار پر کسی کو کسی طرح منفی کلام کی گنجائش نہیں۔ ان کی بے مثال قربانی اور ان کی عظمت ومرتبت کا اعتراف کرنے کی بجائے کچھ بدبخت اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے اپنی زبان وقلم دراز کرتے ہیں اور اس پر مستزادیہ کہ عترتِ رسول، اہل بیتِ نبوت کو قتل کروانے والے، حرمتِ حرمِ نبوی کو پامال کرنے اور کعبتہ اللہ پر سنگ باری کروانے والے فاسق وفاجر، ظالم وجابر ،بدکردار ،یزید پلید(علیہ مایستحقہ) کو’’جنتی‘‘ قرار دینے کی مذموم سازش کرتے ہیں اور امت میں فتنہ وفساد کرتے کراتے ہیں۔ نواسۂ رسول مقبول کی محبت وعقیدت اپنا کر ان کے کردار کی تابانی اور ان کی مدح کرکے خود کو شاداں وتاباں کرنے کی بجائے یہ ناعاقبت اندیش یزید پلید اور اس کی سیاہ کاریوں کی تعریف وتوصیف کرکے خود کو رُوسیاہ اور اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کررہے ہیں۔
یزید پلید کو جنتی ثابت کرنے کی مذموم کوشش میں اپنا مستدل یہ ایک حدیث شریف کو بناتے ہیں، وہ حدیث شریف ملاحظہ ہو:
’’عمیر بن اسود عنسی کہتے ہیں کہ وہ عبادہ بن صامت کی خدمت میں آئے، وہ حمص کے ساحل پر اپنی عمارت میں اترے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ (ان کی اہلیہ)امّ حرام (بنت ملحان)بھی تھیں۔ عمیر کہتے ہیں ان سے ام حرام نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،فرماتے تھے:پہلا لشکر میری امت میں سے جو بحری جہاد کرے گا (اس نے جنت کو خود پر)واجب کرلیا۔ ام حرام نے عرض کی:یا رسول اللہ(صلی اللہ علیک وسلم)میں ان میں ہوں؟نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تُو ان میں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:پہلا لشکر میری امت میں سے جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا، بخش دیا جائے گا۔ امّ حرام نے پھر عرض کی:یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)میں ان میں ہوں؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔’’(بخاری شریف:2924)
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان حق ترجمان سے عطا ہونے والے اس ارشاد میں غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی عطا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کچھ جانتے ہیں، ان سے رب تعالیٰ نے کچھ مخفی نہیں رکھا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد میں مغفرت کی بشارت ہے مگر تین شرطیں بھی ہیں۔ پہلی شرط: پہلا لشکر۔ دوسری شرط:وہ بحری سفر کرے۔ تیسری شرط:قیصر کے شہر پر حملہ کرے۔
اس حدیث کو جانے کیوں’’حدیثِ قسطن طِینیہ‘‘بھی کہا جانے لگا ہے۔ بادشاہ قُسطَن کے نام سے پکارے جانے والے اس شہر کو اب استنبول کہا جاتا ہے، ترکی کا مشہور شہر ہے۔ پرانا نام’’قُسطَن طِی نِیہ‘‘ ہے مگر لوگ ’’قسطن طُنیہ‘‘کہتے ہیں۔
واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس حدیث شریف کو پیش کرکے جو لوگ یزید پلید کو جنتی قرار دینے کی مذموم جسارت کرتے ہیں ان کی کتابوں میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ جملے درج ہیں کہ ’’ نبی کو خود اپنے انجام کی خبر نہیں،نبی کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں، شیطان کا علم نبی سے زیادہ ہے‘‘۔۔۔(معاذ اللہ)یزید پلید سے اس کی خباثت وشیطنت کے باوجود ان لوگوں کو کوئی خاص لگاؤ ہی ہے کہ وہ اس کو جنتی کہتے مانتے ہیں ۔
بخاری شریف میں درج اس حدیث شریف میں معمولی سی توجہ سے دو باتیں واضح طورپر دیکھی جاسکتی ہیں۔(1)حدیث شریف میں قسطن طی نیہ کا نام نہیں ہے۔
’’مدینتہ قیصر‘‘(قیصر کے شہر)کے الفاظ کا ترجمہ یا مطلب کسی لغت میں قسطن طی نیہ ہر گز نظر نہیں آتا۔(2)پہلے لشکر کی قید ہے اور پوری حدیث شریف کے مطابق غور کیا جائے تو بحری سفر کی شرط بھی موجود ہے۔
قیصر روم کی سلطنت کا کوئی بھی شہر’’مدینتہ قیصر‘‘ہی کہلائے گا۔ قیصر کے شہر سے مراد وہی شہر ہونا چاہیے جس شہر میں اس روز قیصر روم موجود تھا ،جس روز میرے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا یا جو شہر قیصر روم کا دارالسلطنت تھا وہ مراد لیا جانا چاہیے۔ قیصر کے دارالسطنت کا نام ’’حِمص‘‘(EMESA)تھا۔
تاریخ وسیرت کے واقفین بخوبی آگاہ ہوں گے کہ قیصر کے شہر پر پہلی لشکر کشی 8ہجری میں ہوئی تھی۔ اسے غزوۂ موتہ کہتے ہیں اور یہ جہاد میرے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری عہد مبارک میں ہوا۔ قیصر کے شہر’’حمص‘‘کے لیے پہلی لشکر کشی امیر المومنین سیدنا عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں 15ہجری میں ہوئی اور مجاہدین اسلام نے اسے فتح کیا(کتابوں میں عہد صدیقی کے حوالے سے بھی روایات ہیں)بخاری شریف کی حدیث میں بشارت کے مستحق غزوۂ موتہ یا حمص کے لیے پہلے لشکر والے شمار ہونے چاہئیں ۔(واضح رہے کہ اس وقت تک یزید پلید پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔اس کی تاریخ پیدائش وکی پیڈیا کے مطابق 11شوال 26ہجری،23جولائی 647ء ہے، یزید پلید کی والدہ میسون غیر مسلم تھی )۔( یزیدی المیوں کا پس منظر ، ص 18 ، مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد یوسف ، مطبوعہ نظریہ فاؤنڈیشن پبلشر ، چنیوٹ روڈ ، فیصل آباد )
قیصر کے شہر سے مراد اگر قسطن طی نیہ ہی ماننے کی ضد ہو کیوں کہ یزید پلید اس میں شریک ہوگیا تھا، تو یہ بھی ناقابل تردید واقعہ ہے کہ قسطن طی نیہ پر حملہ کرنے والے پہلے لشکر میں یزید پلید ہرگز شریک نہیں تھا۔ اور حدیث شریف میں بشارتِ مغفرت صرف پہلے لشکر کے لیے ہے۔
تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یزید پلید سے پہلے بھی قسطن طی نیہ پر چار مرتبہ لشکر کشی ہوچکی تھی۔ اس شہر پر پہلی لشکر کشی امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی ذی النورین رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں 32ہجری میں ہوئی۔
(البدایہ والنھایہ 179/7،تاریخ طبری 304/4، تاریخ کامل ابن اثیر503/2)
دوسری مرتبہ 43ہجری میں، تیسری مرتبہ 44ہجری میں اور چوتھی مرتبہ 46ہجری میں قیصر کے اس شہر قسطن طی نیہ پر لشکرِ کشی ہوئی۔ تاریخی حوالوں سے وکی پیڈیا کے مطابق 42ہجری میں عبداللہ بن ارطاۃ ،43ہجری میں بُسربن ارطاۃ، 44ہجری میں عبدالرحمن بن خالد بن الولید، 46ہجری میں مالک بن عبدالرحمن اور عبدالرحمن بن خالد، 47ہجری میں مالک بن ھبیرہ اور 49ہجری میں سفیان بن عوف کی سرکردگی میں قسطن طِی نِیہ پر لشکر کشی ہوئی۔
تاریخی حوالوں کے بعد اب حدیث شریف بھی ملاحظہ ہو۔ سنن ابو داؤد، صحاح ستہ میں سے حدیث شریف کی مشہور کتاب ہے۔ دور جدید کے متشدد البانی نے بھی اس حدیث شریف کی صحت کا اقرار کیا ہے۔ ابو عمران کہتے ہیں کہ ہم جہاد کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے قسطن طی نیہ گئے اور سالار جنگ عبدالرحمن بن خالد بن الولید تھے۔(اس حدیث شریف میں ہے کہ)حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جو لشکر میں تھے جہاد کرتے رہے اور قسطن طی نیہ ہی میں مدفون ہوئے۔(ابو داؤد:2152)
ابوداؤد ہی میں حدیث:2687میں بھی عبدالرحمن بن خالد بن الولید کی سربراہی میں حضرت ابو ایوب انصاری کا جہاد کرنا بیان ہوا ہے اور یہ واقعہ 46ہجری کا ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں حدیث نمبر 27933میں بھی ہے کہ:ہم نے ارض روم میں جہاد کیا اور ہمارے ساتھ ابو ایوب انصاری صاحبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور سالار عبدالرحمن بن خالد بن الولید تھے امیر معاویہ کے زمانے میں۔ السنن الکبری للبیھقی، حدیث نمبر 18060میں بھی ارض روم میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا عبدالرحمن بن خالد بن الولید کی قیادت میں جہاد کا بیان ہے۔ امیر لشکر حضرت عبدالرحمن بن خالد کو جنگ کے بعد ابن اثال نامی نصرانی نے شربت میں زہر ملاکر پلادیا تھا جس سے ان کی وفات ہوگئی۔(تاریخ کا مل227/5)
49ہجری میں شروع ہونے والی قسطن طی نیہ کی جنگ کے حوالے سے یزید پلید کاذکر ملتا ہے، اس سے پہلے کی جنگوں کے حوالے سے اس کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ احادیث اور تاریخ کے مذکورہ حوالے واضح کرچکے کہ 49ہجری سے پہلے قسطن طی نیہ پر لشکر کشی تین سے زائد مرتبہ ہوچکی تھی اور حدیث میں مغفرت کی بشارت صرف پہلے لشکر کے لیے ہے۔
البدایہ والنھایہ میں ہے کہ 49ہجری میں یزید بن معاویہ نے بلاد روم پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ قسطن طی نیہ پہنچ گیا۔ اسی کتاب میں ہے کہ 51ہجری میں یزید نے قسطن طینیہ پر حملہ کیا۔ اسی کتاب میں 52ہجری کا ذکر بھی ہے۔ اسی کتاب میں 41ہجری کے حوالے سے بھی حضرت امیر معاویہ کا روم پر حملے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ 49ہجری سے پہلے قسطن طی نیہ پر تین چار مرتبہ حملہ ہوچکا تھا اور ان میں سے کسی لشکر میں یزید پلید نہیں تھا۔
بخاری شریف میں درج حدیث شریف کے پورے متن کو دیکھ کر کوئی اگر یہ خیال کرے کہ اس سے مراد وہ حملہ ہونا چاہیے جو بحری سفر سے جہاد کے بعد ہوتو جزیرہ قبرص(قبرس)28ہجری میں فتح ہوچکا تھا۔ علامہ حافظ ابن کثیر نے 33ہجری میں قبرص کی فتح کا ذکر کیا ہے۔ تاریخ کامل اور تاریخ طبری میں ہے کہ 27ہجری میں قبرص فتح ہوا۔ اس میں حضرت عبادہ بن صامت اور ان کی اہلیہ ام حرام نے شرکت کی۔ ام حرام کی وہیں وفات ہوئی۔ اگر 33ہجری کی روایت ہی صحیح ہو تو بھی قسطن طی نیہ پر 49ھ سے پہلے تین مرتبہ یلغار ہوچکی تھی اور یزید پلید جس لشکر میں تھا وہ ہرگز پہلا لشکر نہیں تھا۔
قسطن طی نیہ کے لیے لشکر میں یزید کی شرکت کا احوال بھی ملاحظہ ہو:
تاریخ کامل ابن اثیر میں ہے:’’اور اسی سن 49ھ میں اور کہا گیا کہ 50ہجری میں حضرت امیر معاویہ نے ایک لشکر جرار بلاد روم کی طرف بھیجا اور اس پر سفیان بن عرف کو سالار بنایا اور اپنے بیٹے یزید کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتو یزید بیٹھ رہا اور حیلے بہانے کیے تو امیر معاویہ اس سے رک گئے اس لشکر میں لوگوں پر شدید بھوک اور بیماری آپڑی تو یزید نے (خوش ہوکرشعر) کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ ان مجاہدین پر بخاروتنگی کی بلائیں فرقدونہ(کے مقام)میں آپڑیں جب کہ میں دیر مران میں اونچی مسند پر تکیہ لگائے ام کلثوم کو اپنے پہلو میں لیے بیٹھا ہوں۔ ام کلثوم بنت عبداللہ بن عامر اس یزید کی بیوی تھی۔ یزید کے یہ اشعار حضرت امیر معاویہ کو پہنچے تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ اب میں یزید کو سفیان بن عوف کے پاس ارض روم ضرور بھیجوں گا تاکہ اسے بھی وہ مصائب پہنچیں جو لوگوں(مجاہدین)کو پہنچ رہے ہیں تو (بادل نخواستہ)یزید کو جانا پڑا۔۔۔،،(56/3)
اس روایت میں غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس لشکر کے سالار سفیان بن عوف تھے اور اگر اسی لشکر کو ’’پہلا‘‘شمار کیا جائے تو بھی یزید پلید اس میں شامل نہیں تھا بلکہ وہ پہلے لشکر کی مدد کے لیے بھیجے گئے دوسرے لشکر میں زبردستی بھیجا گیا۔ پہلے لشکر کے ساتھ جانے پر اس نے حیلے بہانے کیے اور اپنے باپ کی بھی نافرمانی کی۔ پہلے لشکر کو پیش آنے والے مصائب اور مجاہدین کی تکلیف پر یزید پلید کی خوشی سے اس کے مزاج اور سوچ کا احوال بھی عیاں ہے۔ دوسرے لشکر میں وہ بخوشی نہیں گیابلکہ حضرت امیر معاویہ نے قسم اٹھالی تھی اور اس کو زبردستی بھیجا۔ جہاد تو عبادت ہے اور بغیر اخلاص اور نیت عبادت کیسی؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے لشکر نے بحری راستے سے بھی سفر کیا اور دوسرے لشکر میں یزید پلید نے خشکی ہی کا سفر کیا۔ بخاری شریف میں حدیث شریف بالکل صحیح ہے اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ اس حدیث کی بشارت ہرگز یزید پلید کو شامل نہیں۔
وہ لوگ جو اتنے احتمالات کے باوجود اس حدیث شریف سے ا ستدلال کرکے یزید پلید کو جنتی ثابت کرنے پر مُصر ہیں وہ شاید نہیں جانتے کہ جہاد قسطن طی نیہ میں بکراہت شرکت کے بعد یزید پلید کا احوال کیا رہا۔ کیوں کہ صحیح احادیث میں ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کرنے سے خطائیں معاف ہوجاتی ہیں تو جہاد کے بعد کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے یا مرتد ہوجانے سے مغفرت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ جس نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے ۔متعدد احادیث میں خاص نیکیوں پر مغفور لہم بخش دیے جانے ، اَوْجَب، جنت واجب ہوجانے، حرّم اللّٰہ علیہ النّار، دوزخ اس پر حرام ہونے کی بشارت بیان ہوئی ہے۔ ایک شخص کلمہ پڑھ کر اسلام کی کسی قطعی بات کا منکر ہوجائے یا نماز، زکوٰۃ، ختم نبوت کا انکار کردے تو کیا پھر بھی وہ کلمہ گو جنت ومغفرت کی بشارت کا مستحق ہی رہے گا؟ہرگز نہیں۔ دلیل خاص اس شخص کو بشارت ومغفرت سے خارج کردے گی۔
یزید پلید کے بارے میں احادیث ملاحظہ ہوں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں لونڈوں (عقل وتدبیر اور دین میں کم زور لڑکوں)کی امارت(حکومت)سے پناہ مانگتا ہوں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کی، لڑکوں کی امارت کیسی ہوگی؟رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کی فرمان برداری کروگے تو (دین کے معاملے میں)ہلاک ہوجاؤگے اور اگر تم ان کی نافرمانی کروگے تو وہ تمہیں (تمہاری دنیا کے بارے میں)جان لے کر یا مال لے کر یا دونوں(جان ومال)لے کر ہلاک کردیں گے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ(60)ہجری کے سال اور لونڈوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے ہوئے بھی(بارگاہ الٰہی میں)عرض کرتے تھے: یا اللہ! مجھے 60ہجری کا سال اور لونڈوں کی حکومت نہ پائے (یعنی مجھے اس سے پہلے وفات دے دینا)۔ اس حدیث کو نقل کرکے فتح الباری شرح بخاری میں علامہ حافظ عسقلانی فرماتے ہیں:اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ان لڑکوں میں سے پہلا لڑکا ساٹھ ہجری میں ہوگا اور ایسا ہی ہوا کہ کیوں کہ یزید بن معاویہ 60ہجری میں حکومت میں آیا اور 64ہجری تک رہا پھر مرگیا۔ علامہ عسقلانی لکھتے ہیں: اور ان لڑکوں میں پہلا یزید ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے ساٹھ ہجری اور لونڈوں کی حکومت کا، اس پر دلالت کرتا ہے کیوں کہ یزید نے زیادہ تر بزرگوں کو بڑے شہروں کی حکومت سے الگ کرکے ان کی جگہ اپنے قریبی نوعمر لڑکوں کو عہدوں پر مقرر کردیا تھا۔ یہی بات حضرت علامہ بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری شرح بخاری میں لکھی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، فرمایا: وہ ناخلف ساٹھ ہجری کے بعد ہوں گے جو نمازیں ضائع کریں گے اور خواہشات (شہوات)کی پے روی کریں گے تو وہ عنقریب(جہنم کی وادی)غیّ میں ڈالے جائیں گے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، فرمایا: پہلا شخص جو میری سنت کو بدلے گا بنی امیہ میں سے ہوگا۔حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، فرمایا: پہلا شخص جو میری سنت کو بدلے گا بنی امیہ میں سے ہوگا جس کو یزید کہا جائے گا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا امر (حکومت)عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہوگا جس کو یزید کہاجائے گا۔
60ہجری میں حضرت امیر معاویہ کی وفات ہوئی اور یزید تخت نشین ہوا۔ 61 ہجری میں واقعہ کربلا ہوا اور یزید پلید کے حکم سے خاندان نبوت کے مقدس افراد کو بھوکا پیاسا ذبح کیا گیا ۔نواسۂ رسول کو بے دردی سے شہید کرکے ان کے مقدس جسم کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روند ا گیا۔ رسول زادیوں کے خیموں کو جلایا گیا۔ ان کے زیور وغیرہ چھین لیے گئے اور ان کی چادریں تک چھین لی گئیں اور انہیں بے پردہ گلیوں،بازاروں میں پھرا کے بے حرمتی کی گئی۔ شہیدوں کے سروں کو نیزوں پر چڑھاکر گلیوں میں پھرایا گیا۔ 63ہجری میں یزید پلید کے حکم سے مدینہ منورہ پر حملہ کیا گیا۔ واقعہ حرّہ میں سات سو صحابہ کرام اور ان کی اولاد اور اہل مدینہ چھوٹے بڑے دس ہزار سے زائد افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ یزید پلید کے حکم سے لشکر یزید پر تین دن تک مدینہ منورہ کو مباح قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوس میں رہنے والی پاک دامن خواتین کی ان کے گھروں میں گھس کر بہیمانہ طورپر آبرو ریزی کی گئی۔ مسجدِ نبوی میں گھوڑے باندھے گئے ،مسجد میں لید پیشاب ہوتا رہا، پھر اسی کے حکم سے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا گیا اوربیت اللہ پر سنگ باری کی گئی ،غلاف کعبہ جلایا گیا، بعض محرمات کو حلال قرار دے دیا گیا۔
اصحاب نبوی کی اولاد کا بیان ہے کہ ہمیں یزید کی سیاہ کاریاں دیکھ کر یہ خوف ہونے لگا تھا کہ آسمان سے کہیں پتھر نہ برس پڑیں۔ یزید پلید کے وہ اقوال واشعار بھی تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ اس نے کربلا میں اپنے ان لوگوں کا بدلہ لیا ہے جنہیں غزوہ بدر میں ماردیا گیا تھا ۔اور یہ بھی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت نہیں ملی تھی(معاذاللہ)۔حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے ان کے فرزند نے یزید پلید کے بارے میں پوچھا تو امام احمد نے فرمایا:’’بیٹا! اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو یزید سے دوستی رکھے؟ اور میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے۔ بیٹے نے عرض کی کہ کتاب اللہ(قرآن)میں اللہ تعالیٰ نے کہاں(یعنی کس آیت میں)یزید پر لعنت کی ہے؟امام احمد نے (سورۃ محمد کی 22اور 23نمبر)آیات پڑھیں: تو تم سے یہی ہوگا کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور قطع رحمی کروگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی پھر ان کو (حق سے )بہرا اور اندھا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ امام احمد نے فرمایا:کیا(نواسۂ رسول)سیدنا حسین کے قتل سے بڑھ کر بھی کوئی فساد ہوسکتا ہے؟‘‘
صحیح مسلم شریف میں احادیث موجود ہیں جن میں اہل مدینہ کے ساتھ برائی کے ارادے اور انہیں خوف زدہ کرنے پر شدید ترین لعنت اور عذاب کا بیان ہے۔ علامہ محدث ابن جوزی نے یزید پر لعنت اور اس کی مذمت کے مسئلہ میں پوری کتاب ’’الرد علی المتعصب العنید المانع من ذمّ یزید‘‘تالیف کی ہے ، اس موضوع پر تفصیل کے لیے اردو میں میرے والد گرامی مجدد مسلک اہل سنت، خطیب اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اللہ علیہ کی بہت عمدہ کتاب ’’امام پاک اور یزید پلید‘‘دیکھی جاسکتی ہے۔
تابعین میں حضرت امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے کسی نے یزید پلید کو ’’امیر المومنین‘‘ کہہ دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز غضب ناک ہوئے اور سزا میں اس شخص کو 20کوڑے لگوائے۔
تمام حقائق جان کر بھی حامیانِ یزید پلید اگر بضد ہیں اور انہیں اس کے ’’جنتی‘‘ہونے پر یقین ہے تو قیامت میں اپنا حشر یزید پلید کے ساتھ ہونے کی دعا کیا کریں کیوں کہ یہ حدیث شریف بھی بخاری میں ہے کہ جس سے محبت رکھتے ہو قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگے۔۔۔